Love Sea ( A Real Story ) Episod-18
Love Sea
( A Real Story ) Episod-18
Hakim woke up and started shouting Jabbar's name loudly. Jabbar heard Hakim's voice and ran to Hakim's room. Hakim was dreaming.
Jabbar - What happened, Dad?
Hakim: O Jabbar, why did you need to touch Timur's mouth?
Jabbar: Dad, you're delusional. I don't see Timur these days
Hakim - Even if a meeting is held, do not go empty handed. Such an enemy should be shot before taking the initiative.
Jabbar - Should I go?
Hakim - Yes, go, listen, take care
when Yawer came to visit his sister's house, he saw Rabia depressed
Yawar - What happened? And where is the sister?
Rabia - she went to see Timur last night. When she returned, she was confronted by Amin, but she left without talking to me.
Yawar - I said Timur is bad man, don't go
Rabia - It's a different matter Uncle if Timur had said something, she would have been angry, but she was not angry.
Yawar rang the doorbell and shouted, "Open the door."
Parveen - Go back and the door won't open
And the door must be opened, sister
Parveen - I'll shoot myself if you hit
Yawar - Something is wrong, something is wrong
Yawar went to Rams's room and brought him to the door of Parveen's room in a wheelchair. Yawar knocked on the door of Parveen's room again and said open the door. He wants to see his mother in front of his eyes. He has come with the hope of seeing you. If you can't do anything for him, at least don't take his hope away from him. Open the door. Sister, open the door. Rams is standing at the door. He is knocking. He is shouting. Open the door. Ma Ma. Is knocking is shouting ma ma open the door.
Yawar - If you had just crossed the river of Anna, then why did you come back from the shore, sister?
Parveen: It was necessary to return or else the dirt of this street would have hit my feet
Yawar - I alread said you not go thear , I'm talking to Timur
Parveen - I should have talked to Timur too but before I spoke I lost the courage to listen
Yawar - Why doesn't she always tell what happened?
Parveen - Someone scared me on the way and I got scared
Yawar - Parveen was scared of Timur
Parveen - Yes, and Parveen was afraid of Timur. The one whose name is Timur is not an enemy today. The one whose death could have been for me is the son of Hayat Ahmed. As a stepmother, I have the right to hate him. Went back to the room)
Jabbar: I am also very angry. but Sikandar is a little too angry dad , When he shot Jalil, the score was equal. Explain to him dad
Hakim - Wow, wow, it seems that the bacteria of politics has entered your mind today. Then write my words today. Now the seat is not out of your hands.
Jabbar - It is necessary to cool sikender's mind to save the seat, dad
Hakim - O Sikender my dear son look at me here, son your name is Sikender but it does not mean that you are Sikender of destiny, now if Jalil did not die from your bullets then it is God's pleasure
Sikender - In the village I proudly say that I am the son of a brave father but since I came to the city you have put me in a school of cowardice
Hakim - Listen Sikender , shooting people is not bravery, it is a principle of politics, whoever has to be killed, put death behind him
Sikender - Ignorant man does not know politics, and according to the principle of ignorance, kills birds with slingshots, and with guns man and man whether helpless or glorious, death is real
Hakim: I forgave Jalil 100 times now?
Sikender - You forgave Jalil. Okay, but I don't forgive the one who shot my father
Hakim: What kind of clay are you made of? I also told your mother not to name him Sikender . He will make you pray all your life.
Sikender : Don't put Mom in the middle, Dad
Hakim: No, son, your mother does not make a fuss
Sikender - Gullla is made of you Dad, two sips of water have drowned the whole Hakim I can't see you drowning
Hakim: Don't make a cantonment here under the pretext of my drowning. You leave quickly and reach the village and inform me on the phone that you are fine.
Sikender - I never put a bullet in a gun and if I put it in, I never empty it without firing. Now it is time to pray that if I shoot, the target will miss and the target will miss this happen i am not meet in my life .
to b continue .............
--------------------------------------------------------------
Love Sea
( A Real Story ) Episod-18
حاکم نیند سے جاگ اٹھا اور زور زور سے جبار کا نام پوکارنے لگا حاکم کی آواز سن کر جبار دوڑتا ہوا حاکم کے کمرے میں داخل ہوا ، حاکم خواب دیکھ رہا تھا
جبار - کیا ہوا ابا جی ؟
حاکم - اوے جبار تمہیں تیمور کے موں لگنے کی کیا ضرورت تھی
جبار - ابا جی آپ کو وہم ہو گیا ہے تیمور سے آج کل میری ملاقات نہیں ہوتی
حاکم - اگر ملاقات ہو بھی جاۓ تو خالی ہاتھ مت جانا اس طرح کے دشمن کو پہل کرنے سے پہلے ہی گولی مار دینی چاہئے
جبار - میں جاؤں ؟
حاکم - ہاں جاؤ ، سنو اپنا خیال رکھنا
یاور اپنی بہن کے گھر ملنے آیا رابعہ کو افسوردہ دیکھ کر کہا
یاور - کیا ہوا ؟ اور ہمشیرہ کہاں ہے ؟
رابعہ - کل رات تیمور سے ملنے گئی تھی لوٹ کر آئین تو مجھ سے آمنہ سامنا ہوا لیکن مجھ سے بات کئے بغیر چلی گئیں رامس کو دیکھا تک نہیں کمرہ لاک کیا اور کہا کہ کوئی دروازہ نہیں کھٹکھٹا ئے گا
یاور - میں نے کہا تھا تیمور تیڈا آدمی ہے مت جاؤ
رابعہ - بات کچھ اور ہے یاور انکل تیمور نے کچھ کہا ہوتا تو چہرے پر غصّہ ہوتا لیکن غصّہ نہیں تھا یاور انکل بہت تکلیف تھی جسے ما ما کے چہرے سے ما ما کا غرور چھن گیا ہو
یاور نے دروازہ بجایا اور آواز دی ہمشیرہ دروازہ کھولو
پروین - لوٹ جاؤ یاور دروازہ نہیں کھلے گا
یاور - دروازہ کھولنا ہوگا ہمشیرہ
پروین - اگر تم زد کرو گے تو میں خود کو شوٹ کر دونگی
یاور - سمتھنگ رونگ ، کچھ نہ کچھ تو غلط ہے
یاور رامس کے کمرے میں گیا اور اس کو ویل چیئر پر بیٹھا کر پروین کے کمرے کے دروازے پر لے آیا یاور نے دوبارہ پروین کے کمرے کا دروازہ بجایا اور کہا دروازہ کھولو ہمشیرہ دروازے پر رامس آیا ہے اگر اس کی انگلیاں دستک دینے کے قابل نہیں ہیں تو اس بے آواز کا پوکارنا سن لو یہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کو دیکھنا چاہتا ہے یہ تمہیں دیکھنے کی امید لے کر آیا ہے اگر تم اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتی تو کم از کم اس سے اس کی امید تو مت چھینو دروازہ کھولو ہمشیرہ دروازہ کھولو رامس دروازے پر کھڑا ہے دستک دے رہا ہے پکار پکار کر کہہ رہا ہے دروازہ کھولو ما ما ، پروین نے دروازہ کھولا اور رامس کو یاور کے ساتھ ویل چیئر پربیٹھا دیکھ کر کہا ، تم نے کہا تھا رامس دروازے پر کھڑا ہے دستک دے رہا ہے پکار پکار کر کہہ رہا ہے ما ما دروازہ کھولو .
یاور - اگر تم نے اپنی عنّا کے دریا کو پار کر ہی لیا تھا تو پھر کنارے سے واپس کیوں لوٹ ائی ہمشیرہ
پروین - لوٹ آنا ضروری تھا یاور ورنہ اس گلی کی مٹی میرے پیروں کوچاٹ گئی ہوتی
یاور - میں نے کہا تھا نہ کے میں بات کرتا ہوں تیمور سے
پروین - بات تو میں نے بھی کر لینی تھی تیمور سے مگر بات کرنے سے پہلے میری سننے کی ہمت چلی گئی
یاور - کیا ہوا ہمشیرہ صاف صاف بتا کیوں نہیں دیتی
پروین - مجھے راستے میں کسی نے ڈرا دیا یاور اور میں ڈر گئی
یاور - پروین تیمور سے ڈر گئی
پروین - ہاں یاور پروین تیمور سے ڈر گئی ، وہ جس کا نام تیمور ہے وہ آج دشمن نہیں وہ جس کی موت میرے لئے سکوں ہوتی وہ حیات احمد کا بیٹا ہے ، بحیثیت سوتیلی ماں کے مجھے اس سے نفرت کرنے کا حق ہے ( کہہ کر واپس کمرے میں چلی گئی )
جبار - غصّہ تو مجھے بھی بہت ہے ابا جی پر سکندر کو کچھ زیادہ ہی غصّہ ہے جب اس نے جلیل کو گولیاں مار دی ہیں تو حساب برابر ہو گیا اس کو سمجھائیں ابا جی سیاستدان سیاست کے دنوں میں بندوق کو لاکر میں بند کر کے رکھتے ہیں
حاکم - واہ جی واہ ، لگتا ہے تمہارے دماغ میں آج سیاست کا بیکٹیریا گھس گیا ہے لو پھر آج میری بات لکھ لو اب سیٹ تمہارے ہاتھ سے نہیں جاتی
جبار - سیٹ بچانے کے لئے سکندر کے دماغ کو ٹھنڈا کرنا ضروری ہے ابا جی
حاکم - اوے سکندر میرے پیارے بیٹے ادھر میری طرف دیکھو ، بیٹا تمہارا نام سکندر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے تم مقدر کے سکندر ہو ، اب اگر جلیل تمہاری گولیوں سے نہیں مرا تو اس میں رب کی رضا ہے
سکندر - گاؤں میں میں بڑے فخر سے کہتا ہوں کے میں ایک بہادر باپ کا بیٹا ہوں لیکن جب سے میں شہر آیا ہوں آپ نے تو مجھے بزدلی کے سکول میں پڑھنے کے لئے ڈال دیا ہے ابا جی
حاکم - سنو سکندر لوگوں کو گولیاں مارنا بہادری نہیں ہے سیاست کا اصول ہے جس کو مارنا ہو موت کو اس کے پیچھے لگا دو باقی کا کام موت خود کر لے گی
سکندر - جاہل انسان کو سیاست نہیں اتی ابا جی ، اور جہالت کے اصول کے مطابق غلیل سے پرندہ مارتے ہیں اور بندوق سے انسان اور انسان چاہے لاچار ہو یا پھر جلیل ، موت برحق ہے
حاکم - میں نے جلیل کو ١٠٠ دفعہ معاف کیا اب ؟
سکندر - آپ نے جلیل کو معاف کیا ٹھیک ہے مگر میرے ابا جی کو گولیاں مارنے والے کو میں معاف نہیں کرتا
حاکم - کس مٹی کے بنے ہو تم ، تمہاری ماں سے بھی کہا تھا اس کا نام سکندر مت رکھو ساری زندگی منتیں کرواۓ گا
سکندر - ماں کو بیچ میں نہ ڈالو ابا جی
حاکم - نہیں بیٹا جی ، آپ کی ماں سے گللہ تو بنتا ہے نہ
سکندر - گللہ تو آپ سے بنتا ہے ابا جی ، شہر کے دو گھونٹ پانی نے پورے حاکم کو ڈبو کے رکھ دیا ہے میں آپ کو ڈوبتا ہوا نہیں دیکھ سکتا
حاکم - میرے ڈوبنے کا بہانہ کر کے آپ یہاں چھاؤنی نہ بنائیں آپ جلدی سے روانہ ہوں اور گاؤں پوھنچ کر مجھے فون پر اطلاع دیں کے آپ خیریت سے ہیں اب اگر تمہاری بندوق سے گولی چلی تو میں جوتی تمہارے سر پے مارونگا
سکندر - ایک تو میں کبھی بندوق میں گولی ڈال کر نہیں رکھتا اور اگر ڈال لوں تو پھر چلاے بغیر خالی نہیں کرتا ، اب یہ دعا کرنا باقی ہے کے میں گولی چلاؤں تو نشانہ چوک جاۓ اور نشانہ چوک جاۓ یہ کبھی ہوا نہیں ابا جی .
to b continue.........


Comments
Post a Comment