Love Sea ( A Real Story ) Episod -16

 


                                 Love Sea 

                                          ( A Real Story )                         Episod-16



Tony - Have you ever wondered how cruel we are now to those who want to stop oppressing people? Shazia - Shut up Tony Tony - Forget about snatching Timur from Zubeida, Shazia, otherwise one day you will say that there is no one more cruel than you. Shazia - All I know is that a person like Timur should not be in the custody of Zubeida Tony - Shazia is imprisoned in love of her own free will, so no Timur would want to be wronged at Shazia's request, (Tony left) (Sikender came home and met Jabbar) Sikender - What's up? Jabbar - Jalil has survived Sikender - Survived? Looking at Jabbar in surprise, it seems that there is a mixture of bullets in your city Jabbar: It's okay for him to survive, brother John Sikender - Why? Jabbar - I heard he is Timur's friend Sikender - Who is this Timur now? Jabbar: Don't create problems, brother Sikender : Don't tell me too much, tell me who Timur is. Jabbar - He is our servant, he comes in handy in elections

Sikender - you are the great jubar , you doing politics very ugly because you depend on other peoples in politics Jabbar: You don't think, brother , friends are not hostile in politics Sikender - O fool, a friend who is afraid of becoming an enemy is never a friend Jabbar Sahib Timur - Who shot? Mojo - The Hakim's man has shot, let's not know Timur, Jalil ............ Timur - Holding hands on Mojo's mouth, not that Dina Jalil is dead (Timur runs to the hospital to see Jalil) Chamu Jalil reached the hospital چھمو - جلیل Jalil - Jalil is still alive, why are there tears in your eyes, Jalil no one is dead chemon - don't say that Jalil Jalil - then let the pearls of tears remain hidden inside your eyes. Don't lose such precious tears for a common man like me. chemon - ask your price to my heart Jalil, there is no one like you (Timur runs into Jalil's room in the hospital) Timur - Jalil is fine, isn't ? Jalil - Do you think I will die from the Hakim's bullet? Timor- i will kill Hakim chimon - Write a report to the police against the Hakim and send him to jail TEAMUR - No, don't chimon. It is not customary to report to the police station in Timor. (If you had been shot by the Hakim, I would have been very angry with you. Jalil, ( timur is gone.) Parveen and Yawar brought Rams back home from Canada . Rabia cried when she saw Rams. he had become mentally ill in a wheelchair. Rabia - After Papa left, our world changed and so it is. Parveen - Take him to the room Rabia - Let him stay here. Mama, my brother will be a lesson for those who come and go. Come on, brother, your treatment is neither in Pakistan and in Canada. Sikender - How are you, Dad? Hakim: I am fine. I am eating bananas. I am eating apples. Please tell me about your health. How is your health and when is your return? Sikandar: The talk of return is over, father Hakim - what is your thing,. Let someone learn from you to answer your father directly Sikender - The newspaper arrives in the village regularly so I can't hear your news on the telephone. Hakim - You idiot, if you knew the tricks of politics, you would get a ticket instead of a tyrant. Sikender - I don't need a ticket to rule over 1000 acres

Hakim - that is why i told you go back to village same you have order over their front of stupid peoples because in city nobody listen your order Sikender: There are no two plus two or five in the city, Dad Hakim: You say straight away that you did not go to the village Sikander: I didn't go to the village now, Dad Hakim - Yes, I know that you are basically a rude person, but in relation to Sikandar Sahib, I am your father, Hakim is my name. You do not stand in front of any common man. Sikender - You sit here and eat bananas and drink juice, I'll just go here after meeting you, Daddy (Sikender is gone) Hakim - Sikender you will go back with some problem (talking to yourself) .

to b countinue............

---------------------------------------------------------------



Love Sea

( A Real Story ) Episod-16


ٹونی -    تم نے کبھی سوچا ہے ، ہم جو لوگوں کو ظلم کرنے سے روکنا چاہتے ہیں کبھی ابھی ہم خود کتنے ظالم ہوتے ہیں 

شازیہ -   شٹ اپ ٹونی 

ٹونی -    تیمور کو زبیدہ سے چھیننے کی بات بھول جاؤ  شازیہ ورنہ کسی روز تم خود کہو گی کے تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں 

شازیہ -   میں صرف اتنا جانتی ہوں کے تیمور جیسا شخص کسی زبیدہ کی قید میں نہیں ہونا چاہئے 

ٹونی -     محبت میں قید اپنی مرضی سے ہوتی ہے شازیہ اس لئے کوئی تیمور کسی شازیہ کے کہنے پر ظلم کرنے کی آرزو نہیں کرے گا ، ( ٹونی چلا گیا )

( سکندر  گھر آیا جبار سے ملاقات ہوئی )

سکندر -    کیا خبر ہے ؟

جبار -       جلیل بچ گیا ہے 

سکندر -     بچ گیا ہے ؟ حیرانی سے جبار کو دیکھتے ہوے ، اوے لگتا ہے تیرے شہر میں گولیوں میں بھی ملاوٹ ہوتی ہے 

جبار -       اس کا بچ جانا ٹھیک ہے بھائی  جان 

سکندر -     کیوں ٹھیک ہے ؟

جبار -        سنا ہے وہ تیمور کا یار ہے 

سکندر -     اب یہ تیمور کون ہے ؟

جبار -        آپ مسلے پیدا نہ کرو بھائی جان 

سکندر -      تم زیادہ مسلے نہ سناؤ مجھے ، مجھے یہ بتاؤ کے یہ تیمور کون ہے ؟

جبار -        ہمارا خدمت گار ہے وہ ، الیکشن میں کام آتا  ہے 

سکندر -      واہ کیا بات ہے تمہاری ، بڑے ہی لولے اور لنگڑے سیاستدان ہو تم جو لوگوں کے کندھوں پے ہاتھ رکھ کر چلتے ہو 

جبار -        آپ نہیں سمجھتے بھائی  جان سیاست میں دوستوں سے دشمنی نہیں کی جاتی 

سکندر -     اوے بیوقوف جس دوست کے دشمن بننے کا ڈر ہوتا ہے وہ کبھی دوست نہیں ہوتا جبار صاھب 

تیمور -     کس نے ماری گولی ؟

موجو -     حاکم کے کسی آدمی نے گولی ماری ہے ، چلو تیمور پتہ نہیں جلیل ............

تیمور -    موجو کے موں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ، اب یہ نہ کہ دینا کے جلیل مر گیا ہے ( تیمور جلیل سے ملنے کے لئے ہسپتال کی طرف دوڑا )

چھمو جلیل سے ملنے ہسپتال پوہنچی )

چھمو - جلیل 

جلیل -    جلیل ابھی زندہ ہے ، تیری آنکھوں میں آنسوں کیوں ہیں ، جلیل کوئی مر تو نہیں گیا 

چھمو -    ایسا نہ کہو جلیل 

جلیل -      پھر آنسوں کے موتیوں کو آنکھوں کے اندر ہی چھپے رہنے دو میرے جیسے ایک عام انسان کے لئے اتنے قیمتی آنسوں کا نقصان نہ کرو 

چھمو -    اپنی قیمت تم میرے دل سے پوچھو جلیل ، تمہارے جیسا تو کوئی بھی نہیں ہے 

( تیمور دوڑتا ہوا ہسپتال میں جلیل کے کمرے میں داخل ہوا )

تیمور -    جلیل تو ٹھیک تو ہے نہ

جلیل -     تمہارا خیال ہے ک میں حاکم کی گولی سے مر جاؤنگا ؟

تیمور -   حاکم کی تو ایسی کی تیسی 

چھمو -    حاکم کے خلاف پولیس میں رپورٹ لکھواؤ اور اسے جیل میں بھجواؤ 

تیمور -    نہیں چھمو نہیں تیمور کے پولیس سٹیشن  میں رپورٹ لکھوانے کا رواج نہیں ہوتا ایک خبر تم نے جلیل کی سنی ہے اور اب ایک خبر تم حاکم کے بیٹے کی سنو گی 

( اگر تم حاکم کی گولی سے مر جاتے تو میں نے تم پر بڑا غصہ کرنا تھا جلیل ، جلیل چلا گیا )

پروین اور یاور رامس کو کینیڈا سیل واپس گھر لے آے رابعہ رامس کو دیکھتے ہی رو پڑی وہ ویل چیئر پی بیٹھا ذہنی مریض بن چکا تھا جو خاموشی سے ہر طرف دیکھتا رہتا 

رابعہ -   پاپا کے چلے جانے کے بعد ہماری تو دنیا ہی بدل گئی اور تو ویسے کا ویسا ہی ہے 

پروین -  اس کو کمرے میں لے جاؤ 

رابعہ -    اسے یہیں رہنے دو ماما میرا بھائی  آنے جانے والوں کے لئے عبرت کا نشان بنا رہے گا  چلو بھائی تمہارا علاج نہ پاکستان میں ہے اور نہ کینیڈا میں 

سکندر -    کیسی طبیعت ہے ابا جی 

حاکم -       میری طبیت تو ٹھیک ہے  کیلے کھا رہا ہوں سیب کھا رہا ہوں آپ اپنی طبیت کا بتائیں ، آپ کی طبیت کسی ہے اور واپسی کب ہے آپ کی ؟

سکندر -      واپسی والی بات تو ختم ہو گئی ہے ابا جی 

حاکم -         وہ کیا بات ہے آپ کی ،. اپنے باپ کو سیدھا سیدھا جواب دینا کوئی آپ سے سیکھے 

سکندر -      ابا جی گاؤں میں بقائدگی سے اخبار آتا  پوھنچتا ہے اس لئے میں ٹیلیفون پے آپ کی خبر نہیں سن سکتا 

حاکم -       اوتے بیوقوف اگر تمہیں سیاست کے داؤ پیچ کا پتہ ہوتا تو جبار کی بجاۓ ٹکٹ تمہیں ملتا 

سکندر -    ١٠٠٠ ایکڑوں پر حکومت کرنے کے لئے مجھے ٹکٹ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی 

حاکم -       اسی لئے تو کہ رہا ہوں کے گاؤں جا کر اپنی حکومت اور جھوٹی رعایا پر حکم چلائیں کیونکہ یہاں شہر میں تو کسی نے آپ کی عرض بھی نہیں سننی 

سکندر -    شہر میں بھی دو جمع دو  پانچ نہیں ہوتے ابا جی 

حاکم -       تم سیدھی طرح کہو کے تم نے گاؤں جانا ہی نہیں 

سکندر -     گاؤں تو میں نے اب نہیں جانا ابا جی 

حاکم -       ہاں ، یہ تو مجھے پتا ہے کے بنیادی طور پر آپ ایک بدتمیز شخص ہیں پر عرض یہ ہے سکندر صاھب کے رشتے میں ، میں آپ کا ابا جی ہوتا ہوں حاکم نام ہے میرا آپ کسی عام  آدمی کے سامنے نہیں کھڑے 

سکندر -    آپ یہاں بیٹھ کر کیلے کھائیں  جوس پئیں ، میں تو یہا میل ملاقات کر کے ہی جاؤں گا ابا جی ( سکندر چلا گیا )

حاکم  -     سکندر  تم یہاں کوئی نہ کوئی مسلہ بنا کے ہی جاؤ گے ( خود سے بات کرتے ہوۓ )

to b countinu............

  

Comments

Popular posts from this blog

GOD AND LOVE

FATHER

Daughter A Beautiful Gift From The GOD .