LOVE SEA ( A Real Story )
Love Sea
(A Real Story) Episod-6
Timur - Leave home and tell me what Yawer came here to do -
Jalil - I came to know about you -
Timor - Direct came to my neighborhood?
Jalil - At first he thought I was Timur. He put a gun to my head and said, "Come with me."
Timor - then the answer will have to go to his house -
Jalil - Are you crazy?
Timor - If he had a pistol on your head, Timur would be crazy.
Jalil - Let the memories of prison be old now, we will see Yawar again -
Timor - Timur will no longer see, whoever sees or sees Yawar Hayat -
Jalil - stop Timur stop -
Zubeida - As she was quietly leaving the house, her mother suddenly appeared.
Mom - where are you going?
Zubeida - I'm going to take the one who angry with me -
Mom - are you going alone?
Zubeida - I will take Mojo with me -
Mom - Mojo that newspaper one?
zubeida- not newspaper one , he is bring the new for me -
Mom - one day you will give him die too -
Zubeida - Shall I go now?
Mom - look Zubeida, he don't get angry when you go out at night like this -
Zubeida - If he gets angry, he should, but he must come home.
(Zubeida went to celebrate Timur with Mojo and met Timur in the street -
Zubeida - I have come to take you back home -
Timor - Go home, don't stand in front of Timur in the street like this -
Zubeida - You are the prince of a state, no one stands in front of Zubeida like this at the crossroads -
Jalil - Stop him, he is going to fight with Yawer Hayat .
Zubeida - O God -
Jalil - He also has a pistol -
Zubaida - You'll go straight home from here Timur -
Timor - No, I will not go -
Zubeida - Then you will pass over my body -
Timor - who are you to stop me, I have lost my face from you, so your lost your face from me now -
Zubeida - (Zubeida's face turned red with anger) Be wise Timur, took Timur's arm and led him home
Jalil - Very Similar -
moji - what's mean?
Jalil - Timor is like Jalil from within -
Moji - how is that?
Jalil - Even if my girlfriend holds my hand, I will not be released -
(Zubaida was holding Timor's hand when Timor came to the street and freed Zubaida)
Timor - I have kept your honor in the square. Now go home and wait for me. If I survive, I will come straight to you.
(Timor left and Zubeida watched)
Mother - Timur did not come?
Zubeida - Didn't find me -
Mom - but your form says it was found but it didn't come -
Zubeida - I can't pray for her now -
Mother - you know that too, Zubeida, what you went to say to her, you went to pray for him -
Zubeida - Big Rustum Khan turns out to be -
Mother - he has been insulted, he will angry some days -
Zubeida - What do you think, mother, without it, there is no electricity in this house, no wind, no running water?
Mom - there's something wrong with Zubeida that made him talk -
Zubeida - I feel sorry for him, I don't know what he will eat, where he will sleep -
Mom - I feel sorry for you Zubeida -
Zubeida - (making an angry face) You too have met with him mother -
Jabbar - (to his employee) Dad thinks I will pray for marriage with Shazia -
Employee - So what will you do -
Jabbar - I will shoot Yawer Hayat in the head
Employee - It's no use -
Jabbar - Why?
Employee - Your father's news is true, look at Timor's Shazia -
Jubbar - That's why Shazia didn't open the door when she heard my name that day, first i ask to father then i will see them both lovers one by one.
(Yawer called to jubbar)
Yawar - Yawar Hayat speaking -
Jabbar: Come to front of me one day and say, I will pull your tongue and put it on your hand
Yawar - Hahaha you ever come in front of me, your father touches you as if you are going to die under someone's feet -
Jabbar - I will not let you escape if you do not come forward one day.
Yawar - Come and tell your father, do you have the courage to come before me?
Jabbar: You tell me the time Yawer , you tell me the time, we will meet now
Yawar - have you met your father?
Jabbar - I am on your way home, call your sister and greet her till I arrive.
Yawar - (sitting in the car) Looks like he's about to die. Daddy took the chicken out of the basket
Jabbar - keep a pistol with you -
Yawar - You are not a special for i keep gun for you , you will fall under my feet and die -
(Yawar and Jabbar face to face on the road) They both pulled Guns on each other and Yawar was shot in the shoulder and fell down.
TO BE COUNTINUE..................
-----------------------------------------------------------------------------------
Love Sea
(A Real Story) Episod-6
تیمور - گھر کی بات چھوڑو تم یہ بتاؤ کے یاور یہاں کیا کرنے آیا تھا -
جلیل - تمہارا پوچھنے آیا تھا -
تیمور - ڈائریکٹ میرے محلے میں ہی آ گیا ؟
جلیل - پہلے تو وہ یہ سمجھا کے میں تیمور ہوں میرے سر پے گن رکھ کر کہا چلو میرے ساتھ -
تیمور - اس کا جواب تو پھر اس کے گھر جا کر ہی دینا پڑیگا -
جلیل - پاگل ہو گئے ہوتم ؟
تیمور - اوے وہ تمہارے سر پر پسٹل رکھے تو پھر تیمور تو پاگل ہی ہوگا نہ -
جلیل - جیل کی یادیں پورانی ہونے دو ابھی ، یاور کو پھر دیکھیں گے -
تیمور - اب تیمور نہیں دیکھے گا ، جو بھی دیکھے گا یاورحیات دیکھے گا -
جلیل - روکو تیمور روکو -
زبیدہ - خاموشی سے گھر سے باہر جانے لگی تو اچانک ماں سامنے آگئی -
ماں - کہاں جا رہی ہو؟
زبیدہ - وہ جو روٹھ کے بیٹھا ہے اس کو لینے جا رہی ہوں -
ماں - اکیلی ہی جا رہی ہو؟
زبیدہ - موجو کو ساتھ لے جاؤنگی -
ماں - موجو وہ اخبار والا ؟
زبیدہ - اخبار والا نہیں ماں خبر والا -
ماں - کسی دن اسے بھی مرواؤ گی -
زبیدہ - اب جاؤں ؟
ماں - دیکھ لو زبیدہ ، تمہارے اس طرح رات کو گھر سے باہر نکلنے پر کہیں غصّہ نہ کرے -
زبیدہ - غصّہ کرتا ہے تو کرے پر گھر تو آے -
( زبیدہ موجو کے ساتھ تیمور کو منانے کے لئے گئی تو گلی میں تیمور سے سامنا ہو گیا -
زبیدہ - میں تمہیں گھر لے جانے کے لئے آئی ہوں -
تیمور - جاؤ گھر چلی جاؤ ، گلی کے چوک میں اس طرح تیمور کے سامنے آ کے کھڑے نہیں ہوتے -
زبیدہ - تم کسی ریاست کے شہزادے ہو ، چوک چوراہے پر اس طرح زبیدہ کے سامنے بھی کوئی کھڑا نہیں ہوتا -
جلیل - روکو اسے زبیدہ ، یاورحیات سے لڑنے جا رہا ہے یہ -
زبیدہ - خدا کا خوف کرو -
جلیل - پیسٹل بھی ہے اس کے پاس -
زبیدہ - تم یہاں سے سیدھا گھر جاؤ گے تیمور -
تیمور - نہیں ، نہیں جاؤنگا میں -
زبیدہ - پھر میری لاش پر سے ہی گزر کے جاؤ گے -
تیمور - تم مجھے روکنے والی کون ہوتی ہو ، تمہاری طرف سے شکل گم کر لی ہے میں نے اب میری طرف سے تم بھی اپنی شکل گم کرو -
زبیدہ - (زبیدہ کا چہرہ غصّے سے لال ہو گیا ) عقل کرو تیمور ، تیمور کا بازو پکڑ کر گھر کی طرف لے گئی -
جلیل - ویری سیمیلر -
موجی - کیا مطلوب ؟
جلیل - اندر سے تیمور بھی جلیل جیسا ہی ہے -
موجی - وہ کیسے ؟
جلیل - میری گرل فرینڈ بھی اگر میرا ہاتھ پکڑ لے تو مجھ سے چھڑوایا نہیں جاتا -
(زبیدہ تیمور کا ہاتھ پکڑ کے لے جا رہی تھی کہ گلی میں آ کر تیمور نے زبیدہ سے ہاتھ چھڑوا لیا )
تیمور - چوک پے تمہاری عزت رکھ لی ہے میں نے اب گھر جاؤ اور میرا انتظار کرو اگر بچ گیا تو سیدھا تمہارے پاس آؤنگا -
( تیمور چلا گیا اور زبیدہ دیکھتی ہی رہ گئی )
ماں - تیمور نہیں آیا ؟
زبیدہ - ملا نہیں مجھے -
ماں - پر تمہاری شکل تو کہتی ہے کہ ملا ہے مگر وہ آیا نہیں -
زبیدہ - اب میں اس کی منتیں تو نہیں کر سکتی -
ماں - یہ تو تمہیں بھی پتہ ہے زبیدہ ، یہ جو تم اسے بولانے گئی تھی ، اس کی منت ہی کرنے گئی تھی -
زبیدہ - بڑا رستم خاں بنا پھرتا ہے -
ماں - بے عزتی ہوئی ہے اس کی ، کچھ دن تو روٹھے گا -
زبیدہ - تم کیا سمجھتی ہو ماں اس کے بغیر اس گھر میں بجلی نہیں جلتی یا ہوا نہں چلتی یا پائپ میں پانی نہیں آتا -
ماں - کچھ تو ہے نہ زبیدہ جس کی وجہ سے اسے بولانے گئی تھی -
زبیدہ - مجھے تو اس پے ترس آتا ہے پتہ نہیں کیا کھاتا ہوگا ، کہاں سوتا ہوگا -
ماں - ترس تو مجھے تم پر آتا ہے زبیدہ -
زبیدہ - (غصّے والا چہرہ بناتے) تم بھی اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو ماں -
جبار - ( اپنے ملازم سے ) ابا سمجھتے ہیں شازیہ سے شادی کے لئے منتیں کرونگا -
ملازم - تو کیا کریں گے -
جبار - میں یاورحیات کے سر پر گولی مرونگا -
ملازم - اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے -
جبار - کیوں ؟
ملازم - آپ کے ابا جی کی خبر بلکل سہی ہے ، تیمور کی شازیہ پر نظر ہے -
جبر - اسی لئے اس دن شازیہ نے میرا نام سن کر دروازہ نہیں کھولا ، پہلے ابا جی کو بتا آؤں پھر ایک ایک کر کے دونوں عاشقوں کو دیکھتا ہوں -
(یاورحیات کی جبار کو کال )
یاور - میں یاورحیات بول رہا ہوں -
جبار - کسی دن میرے سامنے آ کے بول ، تیری زبان کھینچ کے تمہارے ہاتھ پے رکھ دونگا
یاور - ہاہاہا تم کبھی میرے سامنے تو آؤ ، تمہارے ابا جی تو تمہیں ایسے چھو پاۓ پھرتے ہیں جیسے تم کسی کے پاؤں کے نیچے آ کے مر جاؤ گے -
جبار - کسی دن سامنے آ گیا نہ یاورحیات تو بھاگنے نہیں دونگا -
یاور - اپنے ابا جی کو بتا کے آجاؤ ، اتنی ہمت ہے میرے سامنے آنے کی؟
جبار - تم وقت بتاؤ یاورحیات ، تم وقت بتاؤ ابھی ملتے ہیں ، میں اپنے گھر سے نکل آیا ہوں تم بھی اپنی بل میں سے نکل آؤ -
یاور - اپنے ابا جی سے مل کر آے ہو نہ؟
جبار - میں تمہارے گھر کے راستے پر ہوں ، جب تک میں پہنچتا ہوں تب تک تم اپنی ہمشیرہ کو فون کر کے آخری سلام کر لو-
یاور - (کار میں بیٹھتے ہوۓ ) لگتا ہے مرنے کی ٹھان کے نکلے ہو ابا جی نے چوزے کو ٹوکرے سے نکل دیا ہے -
جبار - پسٹل اپنے ساتھ رکھنا یاور -
یاور - تم گولی سے مارنے والی چیز نہیں ہو ، تم تو میرے پاؤں کے نیچے آ کے مر جاؤ گے -
(یاور اور جبار روڈ پر آمنے سامنے) دونوں نے پسٹل ایک دوسرے پر تان دیا تو یاور کو کندھے پر گولی لگی اوروہ نیچے گر گیا -
TO BE COUNTINUE.......................
-----------------------------------------------------------------------------------


Comments
Post a Comment