Love Sea ( A Real Story ) Episod-12
( A Real Story ) Episod-12
Zubeida: Yes, tell me, where is he?
Jalil - He's not there
Zubeida - But was she there?
Jalil: Yes, she was, but Timur was not there
Zubeida - You were looking for Timur in his house but did not find him in his heart
Jalil - Yes, I don't have access to his heart, Zubeida, yes, I have seen it in his eyes.
Zubeida - What did you see in her eyes?
Jalil - Anyone can see in the eyes To look Zubeida is to see if he stays in the eyes when he closes his eyes.
Zubaida - Jalil doesn't care, just find someone and tell him that him father is dead
Jalil - Don't say that you don't care, if you didn't care then owner able Jalil money would not be wasted on rickshaw rental, remember one thing I am a man living in the world of hearts Can't stand the entry of a third in between two person , I'll find it again and promise I'll find it now.
(Jere and Jalil meet in the street)
Jalil - Where are you going, Jira Sahib?
Jira - Let's move on, I have a lot of work to do, and yes, tomorrow is Chimo's wedding. Come and eat sweets (Jira is gone).
Zubeida opened the door
Zubaida - Jalil you?
Jalil - (Depressed) You know Zubeida I love Chimo very much
Zubeida - Yes
Jalil - You know I haven't killed any slaves to date
Zubeida - Yes, I know
Jalil - You know I was scared of lizards and rats?
Zubeida - Yes, I know
Jalil - But Jalil Sahib is no longer afraid of lizards and rats
Zubeida - Why?
Jalil - Why now I have the death line of the Hakim in my hand, if Timur is found, let him say Jalil is gone now
(Phone call to Jabbar)
Jabbar - Hello who, yes I am speaking Jabbar, yes Hakim is my father's name, what? (Surprised) And the phone dropped out of hand.
TO B COUNTINUE.................
-----------------------------------------------------------------------------------
Love Sea
( A Real Story ) Episod-12
زبیدہ - ہاں بولو کہاں ہے وہ ؟
جلیل - وہ وہاں نہیں ہے
زبیدہ - پر وہ وہاں تھی ؟
جلیل - ہاں وہ تھی پر تیمور وہاں نہیں تھا
زبیدہ - تم تیمور کو اس کے گھر میں ڈھونڈ رہے تھے پر اس کے دل میں نہیں دیکھا
جلیل - ہاں پر اس کے دل تک تو میری رسائی نہیں ہے زبیدہ ، ہاں پر اس کی آنکھوں میں دیکھا ہے میں نے
زبیدہ - اس کی آنکھوں میں دکھائی دیا وہ ؟
جلیل - آنکھوں میں تو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے زبیدہ پر دیکھنا یہ ہے کہ آنکھ بند کرنے پر وہ آنکھوں میں رہتا ہے کے نہیں
زبیدہ - اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے جلیل ، بس کوئی ڈھونڈ کر اسے یہ بتا دے کے اس کا باپ مر گیا ہے
جلیل - تم یہ نہ کہو کے تمہیں کوئی پروا نہیں ، اگر پروا نہ ہوتی تو جلیل صاھب کے پیسے رکشے کے کراے پر ضائع نہ ہوتے ، ایک بات یاد رکھنا میں دل والوں کی دنیا میں رہنے والا آدمی ہوں میں ، دو پیار کرنے والوں کے درمیان کسی تیسرے کی انٹری برداشت نہیں کرتا ، میں پھر ڈھونڈتا ہوں اسے اور وعدہ کرتا ہوں کے اب ڈھونڈ کے لاؤنگا اسے .
( جیرے اور جلیل کا گلی میں آمنا سامنا ہو گیا )
جلیل - کہاں جا رہے ہو جیرا صاھب ؟
جیرا - چل ہٹ آگے سے ، مجھے بہت کام ہے ، اور ہاں کل چھیمو کی شادی ہے مٹھائی کھانے آجانا ( جیرا چلا گیا )
دروازہ بجا زبیدہ نے کھولا
زبیدہ جلیل - جلیل تم ؟
جلیل - ( افسردہ ) تمہیں پتہ ہے زبیدہ میں چھیمو سے بہت پیار کرتا ہوں
زبیدہ - ہاں
جلیل - تمہیں پتہ ہے کے آج تک میں نے کوئی بندہ نہیں مارا
زبیدہ - ہاں پتہ ہے
جلیل - پتہ ہے میں چھپکلی اور چوہے سے ڈر جاتا تھا ؟
زبیدہ - ہاں پتہ ہے
جلیل - پر جلیل صاھب اب چھپکلی اور چوہے سے نہیں ڈرتا
زبیدہ - کیوں ؟
جلیل - کیوں کے اب میرے ہاتھ میں حاکم کی موت کی لکیر آ گئی ہے ، اگر تیمور ملے تو اسے کہہ دینا کے جلیل تو اب گیا
( جبار کو فون کال ائی )
جبار - ہیلو کون ، ہاں میں جبار بول رہا ہوں ، ہاں حاکم میرے ابا جی کا نام ہے ، کیا ؟ (حیران) اور فون ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا .
TO B COUNTINUE............


Comments
Post a Comment