Love Sea ( A Real Story ) Episod-10


                          Love Sea

                        ( A Real Story )                           Episo-10




Mazari: Shazia, you have visited my jail many times and asked many questions to the prisoners. You said that everyone speaks against oppression but oppresses. what you think about yourself that what you do .

Shazia: Why Papa what i make a mistake?

Mazari - Tony has packed his luggage, he has a flight tomorrow, he is going to give a surprise just like he gave a surprise.

Shazia: So you want me to stop it?

Mazari - I am not saying that you should stop him but I will say that he should not have gone now -

Shazia - What a spectacle this is.

Tony - Flight is tomorrow -

Shazia - I'm sure you won't leave tomorrow -

Tony - Yes, I'm sure I'll be gone tomorrow -

Shazia - And what if I say no?

Tony - I know you'll never say -

Shazia - I say don't go -

             (When Zubeida opened the door, there was a school teacher in front of her. Everyone used to call her Master. Hayat Ahmed used to say all his heart's questions to the Master.)

Zubaida - Master Sahib -

Master - Where is your mother -

Zubeida - she is  inside, come inside -

Mother - Hello Master -

Master - Hayat Ahmed came to you last night with his apology. You must have turned your face away that night too and said angrily that you have lost your face.

Mother - so what else can I say Master Sahib, I did not have the courage to see his face -

 Master - It seems that he did not have the courage to see his own face even inside. The humiliation of the night before took away his morning. Hajran, Hayat Ahmed is dead (crying).

Jalil - looked around the city but did not find -

Zubeida - Why not found, lost coins in the city are also lost -

Jalil - he couldn't lose Zubeida, he just doesn't get the price in your shop -

Zubeida - Go find out he will be in defense -

Jalil - The fire of doubt is to burn you Zubeida and Timur are your indifference -

Mom - Stop talking nonsense, son, find him and tell him someone careless has died -

Jalil - Who is dead aunt -

Mother - Him father is dead Jalil - (Surprised)

            (yawer calls sisters)

Yawar - Hello Hello Hello sisters, the Hour has broken here, hello hello sisters Hayat Ahmed, hello hello sisters, the call is cut off, she dont wants to hear the name of Hayat Ahmed, she doesn't even know that Hayat Ahmed's name is just left The way is gone - (crying)

Jalil - but I heard that Timur's father had died 25 years ago -

Zubeida - For him  mother, he died 25 years ago, but now him life is gone.

Mojo - but who will explain this to Timur -

Zubeida - If he listens, he will understand, and if he understands, then someone will go and tell him to shoulder his father's funeral.

Jalil - Now what happens to one shoulder Zubeida -

Zubeida - No matter what happens, if Timur shouldered his father's funeral, the dust of the grave will not give him a tug -

-----------------------------------------------------------------------------------


                                     Love Sea

                          ( A Real Story )                             Episod-10


 

مزاری -      شازیہ تم نے بہت بار میری جیل کا وزٹ کیا قیدیوں سے بہت سے سوال پوچھے ، تم نے کہا سب ظلم کے خلاف بات کرتے ہیں پر ظلم کرتے ہیں ، کبھی تم نے خود سے پوچھا کے تم کیا کرتی ہو -

شازیہ -       کیوں پاپا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے ؟

مزاری -      ٹونی نے سامان پیک کر لیا ہے ، کل اس کی فلائٹ ہے ، جس طرح اس نے اچانک آ کے سرپرائز دیا تھا ویسے ہی وہ سرپرائز دے کے جا رہا ہے -

شازیہ -       تو آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے روک لوں؟

مزاری -     میں یہ تو نہیں کہتا کہ تم اسے روک لو پر اتنا ضرور کہوں گا کہ اسے ابھی جانا نہیں چاہئے تھا -

شازیہ -      یہ کیا تماشا ہے اگر سامان پیک کر لیا ہے تو پھر جاتے کیوں نہیں -

ٹونی -       فلائٹ کل کی ہے -

شازیہ -      پکّا ہے نہ کے کل چلے جاؤ گے -

ٹونی  -      ہاں ، کل تو پکّا ہے کے چلا جاؤنگا -

شازیہ -     اور اگر میں کہوں کے نہ جاؤ تو ؟

ٹونی -      مجھے پتا ہے کہ تم کبھی نہیں کہو گی -

شازیہ -    میں کہتی ہوں مت جاؤ نہ -

             ( دروازہ بجا زبیدہ نے دروازہ کھولا تو سامنے اسکول کا استاد تھا سب لوگ اسے ماسٹر کہہ کر پوکارتے تھے ، حیات احمد اپنے دل کی ساری باتیں ماسٹر سے کیا کرتا تھا )

زبیدہ -     ماسٹر صاھب -

ماسٹر -    تمہاری ماں کہاں ہے -

زبیدہ -     اندر ہیں آپ اندر آجائیں -

ماں -       سلام ماسٹر صاھب -

ماسٹر -    پرسوں رات حیات احمد تمہارے پاس اپنی معافی کی درخواست لے کر آیا تھا تم نے اس رات بھی چہرہ پھیر لیا ہوگا اور غصّے میں کہا ہوگا کے اپنی شکل گم کر -

ماں -       تو اور کیا کہتی میں ماسٹر صاھب ، اس کی شکل دیکھنے کا میرے اندر حوصلہ نہیں تھا  -

 ماسٹر -   لگتا ہے اس کے اندر بھی اپنی شکل دیکھنے کا حوصلہ نہیں تھا پرسوں رات کی ذلت نے اس سے اس کی صبح چھین لی حاجراں ، حیات احمد مر گیا ہے  ( روتے ہوۓ )

جلیل -      سارا  شہر گھوم کے دیکھ لیا پر وہ نہیں ملا -

زبیدہ -      کیوں نہیں ملا ، شہر میں کھوٹے سکے بھی گم ہونے لگے ہیں کیا -

جلیل -       وہ کھوٹا سکا نہیں ہے زبیدہ ، بس تمہاری دوکان پے اسے اس کی قیمت نہیں ملتی -

زبیدہ -       جاؤ پتہ کرو وہ ڈیفنس میں ہوگا -

جلیل -        شک کی آگ نے تمہیں جلا دینا ہے زبیدہ اور تیمور کو تمہاری بے پروائی نے -

ماں  -      بے پروائی کی بات چھوڑو بیٹا ، اسکو ڈھونڈو اور اسے بتاؤ کے کوئی لاپروا مر گیا ہے -

جلیل -     کون مر گیا ہے خالہ -

ماں -      اس کا باپ مر گیا ہے جلیل -  ( حیران)

            ( یاور ہمشیران کو فون کرتا ہے )

یاور -     ہیلو ہیلو ہیلو ہمشیران یہاں قیامت ٹوٹ گئی ہے ، ہیلو ہیلو ہمشیران حیات احمد ، ہیلو ہیلو ہمشیران ، کال کٹ گئی ، وہ حیات احمد کا نام بھی سننا چاہتی ، اسکو تو یہ بھی پتہ نہیں کے حیات احمد کا تو بس نام ہی باقی راہ گیا ہے - ( روتے ہوۓ )

جلیل -     لیکن میں تو سنا تھا کے تیمور کا باپ ت ٢٥ سال پہلے مر گیا تھا -

زبیدہ -    ماں  کے لئے  تو وہ ٢٥ سال پہلے ہی مر گیا تھا پر جان اس کی اب نکلی ہے -

موجو -   لیکن یہ بات تیمور کو کون سمجھاۓ گا -

زبیدہ -    سنے گا تو سمجھ بھی آجاۓ گی اور اگر سمجھ آجاۓ تو کوئی اسے جاکے کہے کہ باپ کے جنازے کو کندھا ضرور دے -

جلیل -     اب ایک کندھے سے کیا ہوتا ہے زبیدہ -

زبیدہ -    کسی کو کچھ ہو نہ ہو اگر تیمور نے باپ کے جنازے کو کندھا دیا تو قبر کی مٹی اس تانا نہیں دے گی -  





Comments

Popular posts from this blog

GOD AND LOVE

FATHER

Daughter A Beautiful Gift From The GOD .