khush fehmi
Illusions
Understanding is something that can happen to anyone.
Whether something happens or not, man thinks to himself that I can do everything.
When the reality is very different -
Man cannot keep everything within his reach, nor does he have a magic wand with which he can do whatever he wants.
The man who lives in harmony has his own world and he likes to live in it.
Man has the power of wife and children, in fact he does not have that power. Everything is predestined by nature.
Man thinks he earns his wife and children. That's what he thinks is wrong -
Man does not know how much is his sustenance, but the sustenance of the woman who is included in his life in the form of a wife, and the children who come into his life from Allah in his life. Everyone's sustenance is included in the sustenance that man gets in the form of development in the form of this successful business.
But in our society, man thinks that he is doing all this only with his hard work.
Just think, why does this happen?
This is because we have less faith in God and more faith in our hard work, then this is what happens.
I believe that no one can play a single game on his own.
Every human being eats what is his destiny -
And you can't eat what you don't have -
This may have happened many times in your life but we don't notice it.
As we took two loaves of bread to eat, we just ate the same loaf of bread. Someone knocked on the door of your house. You left the food and got up and went outside. Come on, this is a very important task. You say yes, I will eat, then we will go, but my friend says it will be too late to eat later.
There have been many similar incidents with you -
So the food you gave up was not really your food and you think you gave up because of your friend.
When we are convinced that we cannot eat anyone's share and no one else can eat our share, we cannot give anything to anyone by our own power and no one can take it from us by force - then Life will be easier for us -
But man is not thankful and understands himself - and then we go on the path of destruction, where there is nothing but disgrace.
-----------------------------------------------------------------------------------
خوش فہمی
خوش فہمی ایک ایسی چیز ہے جو کسی کے بھی ساتھ ہو سکتی ہے۔
چاہے کچھ ہو یا نہ ہو ، انسان خود کو ہی سب کچھ سمجھ لیتا ہے کے میں سب کچھ کرسکتا ہوں۔
جب کے حقیقت بہت مختلف ہوتی ہے -
انسان ہر چیز کو اپنی دسترس میں نہیں رکھ سکتا ، اور نہ ہی اس کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہوتی ہے جس سے وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔
خوش فہمی میں رہنے والے انسان کی اپنی ہی ایک دنیاہوتی ہے اور وہ اس میں رہنا پسند کرتا ہے۔
انسان کے پاس بیوی بچوں کا اختیار ہوتا ہیں ، درحقیقت وہ اختیار بھی اس کے پاس نہیں ہوتا ۔ ہر چیز قدرت کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔
انسان سوچتا ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو کما کر پالتا ہے۔ یہی وہ غلط سوچتا ہے -
انسان نہیں جانتا کہ اس کا رزق کتنا ہے ، لیکن اس عورت کا رزق جو بیوی کی صورت میں اس کی زندگی میں شامل ہوتی ہے ، اور وہ بچے جو اس کی زندگی میں اللہ کی طرف سے اس کی زندگی میں آتے ہیں۔ ہر ایک کا رزق اس کے رزق میں شامل ہوتا ہے جو انسان اس کامیاب کاروبار کی شکل میں ترقی کی شکل میں حاصل کرتا ہے۔
لیکن ہمارے معاشرے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ یہ سب صرف اپنی محنت سے کر رہا ہے۔
ذرا سوچیں تو سہی ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ ہمارا الله پے یقین کم اور اپنی محنت پر یقین زیادہ ہو جاتا ہے تب ایسا ہی ہوتا ہے ۔
میرا یقین ہےکہ کوئی کسی کو ایک لکمہ بھی اپنی مرضی سے نہیں کھیلا سکتا۔
ہر انسان وہی کھاتا ہے جو اس کے نصیب کا ہوتا ہے -
اور جو آپ کے نصیب میں نہیں وہ آپ چاہ کر بھی نہیں کھا سکتے -
آپ کی زندگی میں بہت بار ایسا ہوا ہوگا مگر ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا -
جیسا کے ہم نے کھانے کے لئے دو روٹیاں لی ابھی ہم نے ایک ہی روٹی کھائی تھی کے آپ کے گھر کا دروازہ کسی نے بجایا آپ کھانا چھوڑ کر اٹھے باہر جا کر دیکھا تو آپکا کوئی دوست تھا وہ آپ سے کہتا ہے کہ ابھی میرے ساتھ چلو بہت ضروری کام ہے -آپ بار ہا کہتے ہیں کے میں کھانا کھا لوں پھر چلتے ہیں مگر دوست کہتا ہےکے دیر ہو جاۓ گی کھانا بعد میں کھا لینا ابھی چلو میرے ساتھ ، تو آپ کھانا چھوڑ کر دوست کے ساتھ چلے جاتے ہیں -
اس سے ملتے جلتے اور بھی کئی واقعے آپ کے ساتھ ہوۓ ہونگے -
تو جو کھانا آپ نے چھوڑ دیا تھا درحقیقت وہ کھانا آپ کے نصیب کا تھا ہی نہیں اور آپ یہ سوچتے ہیں کہ وہ کھانا آپ نے اپنے دوست کی وجہ سے چھوڑ دیا -
جب ہمارا یہ یقین ہو جاۓ گا کے نہ ہم کسی کے حصّے کا کھا سکتے ہیں اور نہ کوئی اور ہمارے حصّے کا کھا سکتا ہے ، نہ کسی کو اپنی طاقت سے ہم کچھ دے سکتے ہیں اور نہ کوئی ہم سے زبردستی لے سکتا ہے - تب ہمارے لئے زندگی آسان ہو جاۓ گی -
مگر انسان نہ شکرا ہے اور خود کو ہی سب کچھ سمجھ لیتا ہے - اور پھر ہم تباہی کے راستے پر چل نکلتے ہیں ، جہاں رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملتا
-----------------------------------------------------------------------------------

Comments
Post a Comment