GOD AND LOVE

 

                              God and love


The world has witnessed that man has been enslaved to his desires somewhere from eternity to eternity - even if we have to find a way to fulfill those desires - we do.

We are always chasing  useless things in life -

We want to get everything we want -

We love the things in the world that we don't know can ever benefit us in life.

We just blindly pursue our desires, without knowing it, we don't know where we are going, and when we don't get anything, we put all the rubble on our destiny.

human love for  human is a natural process, whether nature is good or bad, we carry it with us in life -

human can change his nature if he wants to, if he can't change it is power of God's power, we can never compete with God's power, but unfortunately we can change our nature instead of God's. Try to collide with nature -

human has many psychological desires, one of which is to fall in love with a human being.

Just think what a human does not do in the love of a human being, the world forgets, breaks the relationship for the sake of it, collides with these relationships, makes friends angry, even disobeys parents He tries to keep his love alive even when he is in pain. He does everything to make his lover happy.

In spite of all this, he does not know whether his love will succeed or not.

While we do not love what we should love -

Who is the one we should love?

He is the God who has promised us that if you love me I will love you, if you love me I will be yours, I will make your desire my desire, just think And I will give you, in this world where I will make whatever you desire your quantity, just once you love me and see, if it is mine, see, I will never let you down in life -

But human is in deficit.

Because he is a slave to his desires.


(O son of Adam, one is your desire, one is my desire. If you do what I want, I will give you what you want. If you do what you want, I will drown you.) What i want from you) -


----------------------------------------------------------------------------------


                                     خدا اور محبت                                        


 

دنیا گواہ ہے کے انسان ازل  سے ابد تک کہیں نہ کہیں اپنی خواہشات کا غلام رہا ہے - خواح ہمیں ان خواہشات کو پوراکرنے کے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑے ہم کر لیتے ہیں -

ہم زندگی میں ہمشہ لا حاصل چیزوں کے پیچھے ہی بھاگتے رہتے ہیں -

چاہتے ہیں کے ہمیں وہ سب کچھ مل جاۓ جس کی ہم خواہش کرتے ہیں -

ہم دنیا میں ان چیزوں سے محبت کرتے ہیں جو پتہ نہیں زندگی میں ہمیں کبھی فائدہ دے بھی سکتی ہیں یہ نہیں -

بس اندھا دھند ہم اپنی خواہشات کا پیچھا کرتے رہتے ہیں ، یہ سوچے سمجھے بغیر کے چلتے چلتے پتہ نہیں ہم کہاں جا پوہنچھیں اور بل آخر جب ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا تو ہم سارا ملبہ اپنی قسمت پر دال دیتے ہیں -

انسان کا انسان سے محبت کرنا ایک فطری عمل ہے ، فطرت چاہے اچھی ہو یا بوری ہم زندگی میں اسے ساتھ لے کر چلتے ہیں -

انسان اگر چاہے تو اپنی فطرت کو بدل سکتا ہے ، اگر نہیں بدل سکتا تو وہ ہے قدرت ، خدا کی قدرت ، ہم کبھی بھی خدا کی قدرت کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی فطرت کو بدلے کی بجاۓ خدا کی قدرت سے ٹکرانے کی کوشش کرتے ہیں -

انسان کی بہت سی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں ، ان میں سے ایک ہے کسی انسان سے عشق کرنا-

ذرا سوچیں تو سہی ایک انسان کے عشق میں انسان کیا کچھ نہیں کرتا ، دنیا بھول جاتا ہے اس کے لئے رشتے ناتے توڑ لیتا ہے ،ان رشتوں سے ٹکرا جاتا ہے ، دوستوں کو ناراض کر جاتا ہے ، ماں باپ کی نافرمانی بھی کر جاتا ہے ، خود دکھ لے کر بھی اپنے عشق کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ، وہ سب کرتا ہے جس سے اس کا دلدار خوش ہو جاۓ -

یہ سب کرنے کے باوجود بھی اس کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کا عشق کامیاب ہوگا بھی کے نہیں -

جبکہ جس  سے ہمیں عشق کرنا چاہئے اس سے ہم عشق کرتے ہی نہیں -

وہ کون ہے جس سے ہمیں عشق کرنا چاہئے  ؟

وہ خدا کی ذات ہے جس نے ہم سے وعدہ کیا ہے کے اگر تو مجھ سے عشق کریگا تو میں تم سے عشق کرونگا ، اگر تو میرا جو جاۓ گا تو میں تیرا ہو جاؤں گا ،تیری چاہت کو اپنی چاہت بنا لونگا ، تو صرف سوچے گا اور میں تجھے دے دونگا ، اس دنیا جہاں میں جس چیز کی خواہش کریگا اس کو تیرا مقدار بنا دونگا ، بس ایک بار تو مجھ سے عشق کر کے تو دیکھ ، میرا ہو کے تو دیکھ ، تجھے کبھی زندگی میں نامراد نہیں ہونے دونگا -

مگر انسان تو خسارے میں ہی رہتا ہے -

کیوں کے وہ اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے-


(  اے ابنے آدم اک تیری چاہت ہے اک میری چاہت ہے ، اگر تو کریگا وہ جو میری چاہت ہے ، تو میں دے دونگا تجھ کو وہ جو تیری چاہت ہے ، اگر تو کریگا وہ جو تیری چاہت ہے ، تو دھنسا دونگا میں تجھ کو اس میں جو تیری چاہت ہے  ) -


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

FATHER

Daughter A Beautiful Gift From The GOD .