Love Sea
Love Sea
( A TRUE STORY ) EPISOD- 1
یہ عشق اور محبت کی ایسی سچی داستان ہے جو صدیوں یاد رکھی جاے گی - سنا ہے محبت اور جنگ میں سب جائز ہے زندگی میں کتنے ہی نشیب و فراز آجائیں مگر پیار کرنے والے اپنا راستہ خود ہی بنا لیتے ہیں - شاعر نے کیا خوب کہا ہے ( میں بھلا کیا کہوں پیار کیا چیز ہے ، پیار لفظوں میں کیسے سمو پاۓ گا ، پیار قطرہ سہی پانیوں میں مگر وہ سمندر سا آنکھوں کو ڈبو جاے گا - پیار آواز ہے جو سنائی نہ دے ، پیار ایک روپ ہے جو دکھائی نہ دے ، پیار وہ وقت ہے جو بدلتا نہیں ، پیار لمحہ ہے جو آ کہ ٹلتا نہیں -)
رانجھن - یہ جگہ پیار کرنے والوں کی ہے یہاں ادب سے آیا کر
تیمور - چل ہٹ ، ابھی تو یہاں سے اٹھ کے جاےگا تو موجی پان والے کا کتا آ کے سوے
گا یہاں
رانجھن - وہ کتا ہے نہ اسے کوئی نہیں روک سکتا
تیمور - چل کچھ ایسا سنا جو میرےدل کو اچھا لگ جاۓ
رانجھن- دل کی باتیں کسی کے حکم سے نہیں نکلتی جس دن ادب کرنے والوں کی ترہان
آے گا نہ تب کہنا سب سناونگا -
تیمور - ہاہاہا ، پاگل ہو گئے ہو تم ، میں تمہارے پاس آؤنگا اور وہ بھی ادب کرنے والوں
کی ترہان اور بیوقوفوں والی باتیں سنو گا ہاہاہا -
( دروازے پے دستک )
پروین - تیمور ہوگا ، اسے بولو اتنی رات کو نہ آیا کرے
زبیدہ نے دروازہ کھولا تو سامنے تیمور ہی تھا
زبیدہ - غصّے سے تیمور کو دیکھتے ہوے بولی تمہیں تو یہ بھی نہیں کہ سکتی
کہ اتنی رات کو کسی کا دروازہ کھٹکھٹانا شریفوں کا کام نہیں
تیمور - منگیتر ہو تم میری تمہارے لئے جھمکے لایا ہوں
زبیدہ - دو ( تیمور ہاتھ آگے بڑھا کہ پیچھے کھینچ لیتا ہے )
تیمور - پہن کے دکھاؤ
زبیدہ - یہ کوئی جھمکے پہننے کا وقت ہے ؟
تیمور - پہن کے دکھاؤ گی تو جاؤں گا
( زبیدہ جھمکے پہن کے دکھاتی ہے اور غصّے سے تیمور کو دیکھتی
ہے )
زبیدہ - اب جاؤ ( تیمور جانے کیلئے موڑتا ہے اور زبیدہ غصّے سے دروازہ بند
کر دیتی ہے )
صبح کے وقت کوئی آدمی تیمور سے ملنے اس کے گھر آیا اور تیمور کی
ماں سے کہا موجھے تیمور سے ملنا ہے
ماں - اٹھ جاؤ تم سے کوئی ملنے آیا ہے
تیمور - کون ہے
ماں - پتہ نہیں ( تیمور آنکھیں ملتا ہوا دروازے پے پوھنچ کے پوچھتا ہے کون ہو
تم -
ظفر - میں ظفر ہوں طارق کا چھوٹا بھائی
تیمور - طارق کہاں ہے
ظفر - وہ گاؤں گیا ہے
تیمور - اچھا توبتاؤ کیسے آے ہو
ظفر - ماکھن میری دوکان خالی نہیں کرتا
تیمور - اسے جا کر میرا نام کہوں وہ تمہاری دوکان خالی کر دیگا
ظفر - میں نے تمہارا نام کہا تھا اس کو اس نے مجھ سے کہا بھاگ جاؤ یہاں سے ورنہ بوھت
ماروں گا تمہیں
تیمور - میرا نام بتایا تھا اسے ؟
ظفر - جی ہان بتایا تھا
تیمور - تو کیا کہا اس نے ؟
ظفر - اس نے موجھے کہا کون تیمور
تیمور - اچھا تو پھر چلتے ہیں اور دیکھتے ہے کے وہ کیا چیز ہے ؟
ماں - تیمور ناشتہ تو کر لو -
تیمور - ماکھن نے دعوت دی ہے ماں میں ناشتہ اس کے ساتھ کرونگا -
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Love Sea
( A true story ) EPISOD-1
This is a true story of love and affection that will be remembered for centuries - I have heard that everything is permissible in love and war, no matter how many ups and downs in life, but lovers make their own way - what a beautiful poet said Yes (what can I say, what is love, how can love be absorbed in words, love is a drop in the water, but it will drown the eyes like the sea - love is a voice that cannot be heard, love is a form that cannot be seen , Love is the time that does not change, love is the moment that does not come and go -)
Ranjhan - This is a place for lovers who come here from literature
Timur - COME ON , WHEN YOU GET OUT FROM HERE THEN MOJI PAAN,s DOG COME AND SLEEP THIS PLACE.
Ranjhan - He is a dog and no one can stop him
Timur - Let's hear something that pleases my heart
Ranjhan: The words of the heart do not come out of anyone's command , when you come here same like a respectable person then ask me i will give you listen .
Timur - Hahaha, you are crazy, I will come to you and those who are literate Will listen to the nonsense hahaha
(Knock on the door)
Parveen - Timur will be, tell him not to come so late at night
When Zubeida opened the door, Timur was in front
Zubeida - Looking at Timur angrily, I can't even tell you
It is not the job of the nobles to knock on anyone's door on such a late night
Timur - My fianc, I have brought you earrings
Zubeida - ok give (Timur pulls his hand forward and pulls back)
Timor- Leste
Zubeida - Is it time to wear a earringe?
Timur - I'll go if you show up
(Zubeida shows off her earringe and looks at Timur angrily Is )
Zubeida - Now go (Timur turns to go and Zubeida angrily closes the door Makes)
In the morning, a man came to Timur's house to visit him
he told my mother that I wanted to see Timur
Mom - Get up. Someone has come to see you
Timur - Who is it?
Mom - I don't know (Timur meets the door and asks who it is You ?
Zafar - I am Zafar, Tariq's younger brother
Timur - Where is Tariq?
Zafar - He has gone to the village
Timur - How did the good repentance come about?
Zafar - makhan doesn't empty my shop
Timur - Go and tell him my name, he'll vacate your shop
Zafar - I told you your name, he told me to run away from here or else I will hit you
Timur - Did you tell him my name?
Zafar - yess had told
Timur - So what did he say?
Zafar - He told me who Timur
Timur - Well then let's go and see what it is?
Mom - Timur Breakfast ?
Timur - Makhan has invited me to have breakfast with him.
( TO BE COUNTINUE )
----------------------------------------------------------------------------------

Very good Mr.haroon
ReplyDelete