Love Sea ( A Real Story ) Episod-14
Love Sea
( A Real Story ) Episod-14
Timur - What if my aunt would have slapped me in the face instead of slapping me if you was angry?
Aunt - I was angry with her, so why did I slap you?
Timur - Then listen aunty, whenever you get angry at her, then not slap her, slap me.
Timo - Zubeida, Zubeida
Zubeida - What else do you want?
Timur - No, Zubeida, I don't see your tears
Zubaida: Let me tell you one thing, Timur, you don't take your hand off me, you just go to the defense.
Timur - You idiot, I'm not to blame, so what's the point of punishment?
Zubeida: I am not guilty either, so what is the punishment?
Timur - If you were so careless then why did you call?
Zubeida - Called to let you know that your father is dead
Timor- but zubeida My father died 25 years ago
Aunt - We lied to you 25 years ago, your father is dead now
(Nasreen returns home)
Nasreen - I knew from his changing habits that he would no longer live in the shadow of my order. Well, he could not change me, so he changed his path.
Yaver - Sister
(Nasreen hugged her daughter and cried and said to her daughter, your father was a wonderful man)
Shazia - I want to meet Timur, Dad, I have come to ask your permission, his father is dead.
Mazari: Rams' father is also dead. You didn't go there
Shazia: I'm going there. who is the father of Rams is also the father of Timur
Mazari - looked at Shazia in surprise
Zubeida - Timur He was your father
Timur - Just don't let anyone name him in front of me, I'll wait for him in the world, now he'll wait for me in the grave
Zubeida - You don't forgive anyone, Timur
Timur - To be honest Zubeida, no one forgives me either (crying)
Aunty - Now he's dead. I've forgotten all my complaints. i want you also forgot all your complaints from your father .
Timur - My memory is very bad. Once something gets stuck in my mind, I don't forget
Aunty - your herd is very small, she never saw you, never hit you, never scolded you just you need love in your life so this you meet from your mother
Timur - How can I tell you that my aunt had no grievances with him, the grievance was that he never hit me or reprimanded me (Timur left)
Yawar: You were not even ready to hear the name of Hayat Ahmed
Nasreen - Did I know that one day you would call and say that he left your world?
Yawar - I have seen his face wrapped in a shroud, he was very satisfied with his face, I can't believe that anyone is so satisfied with his death
( next day )
Mom - Now that Timur has come home, let him live in peace, don't bother him with your knowledge.
Zubeida - Is he straight? He is as straight as Jalebi
Mom: If you sit down with your bad face , he will turn around and go away
Zubeida - Where? With this beautiful fairy?
(When mother knocked on the door, Shazia was in front)
Shazia - Is this Timur's house?
Mom - Yes
Shazia - I am Shazia, I have come to see Timur
Mom - good daughter come in
Shazia: Looking at Zubeida, are you Zubeida? My name is Shazia
Zubeida - Let's sit down, frowning in anger
Shazia - Thank you
Mom - will you eat something?
Shazia: No, I have come from Timur to mourn the death of his father
Zubeida - He is not at home
Shazia - I'll wait
Zubeida - Yes
Shazia - This is the first time I have come inside the city, i like it
Zubeida - The defense likes a lot of things here in the beginning, but they are not good. When did they find out about the death of Timur's father?
Shazia - last day
Zubeida: Surprisingly, Timur found out today, now you will have to come and go
Shazia - Occasionally
Zubeida - Sometimes Timur goes to the defense
Shazia: No, he only had to come once, never again
Zubeida - With a slight smile, Timur is a little stubborn. Maybe he didn't come because you never came here.
(Timur came home)
Timur - Shazia, don't sit down
Zubeida - Don't sit around making sarcastic remarks
Shazia: I have come to mourn your father
Timur - He was not my father and I have no regrets about his death
Zubeida - secretly goes to Shazia's ear and says, "You heard Timur did not regret the death of his father, and when he does not regret it, then you do not regret it."
Shazia - I should go, bent over to go
Zubeida - Listen, no need to come here to see it again. Thanks
(Zubaida is gone)
Hakim: I persuaded you that this news should not reach the village of Jabbar, otherwise he will come here, now he has come and will do as he pleases then new problems will arise Go back to the village
Sikender : I'll go after my father's work
Hakim - What work are you going to accomplish?
Sikender - I want the body of the shooter, Dad
Hakim - I don't want to.
TO B COUNTINUE................
-----------------------------------------------------------------------------------
Love Sea
( A Real Story ) Episod-14
تیمور - یہ کیا کیا خالہ اگر غصّہ آ ہی گیا تھا تو اس کو تھپڑ مارنے کی بجاۓ میرے موں پر تھپڑ مار دیتی
خالہ - غصّہ اس پر آ رہا تھا تو تمہیں تھپڑ کیوں مارتی
تیمور - تو پھر سنو خالہ جب کبھی بھی تمہیں اس پر غصّہ آے تو تھپڑ مجھے ہی مارنا اسے نہیں
تیمو - زبیدہ ، زبیدہ
زبیدہ - اور کیا چاہینے تمہیں ؟
تیمور - نہیں زبیدہ مجھ سے تمہارے یہ آنسوں نہیں دیکھے جاتے
زبیدہ - ایک بات کہوں تیمور مجھے سے تمہارے یہ نخرے نہیں اٹھاۓ جاتے ، تم ڈیفنس ہی چلے جاؤ
تیمور - اوے بیوقوف میرا تو کوئی قصور بھی نہیں ہے تو پھر سزا کس بات کی
زبیدہ - میرا بھی کوئی قصور نہیں ہے تو پھر سزا کس بات کی ؟
تیمور - اتنی بےپروائی تھی تو پھر بلوایا کیوں ؟
زبیدہ - بلوایا اس لئے تھا تاکہ تمہیں خبر مل جاۓ کے تمہارا باپ مر گیا ہے
تیمور - پر زبیدہ میرا باپ تو ٢٥ سال پہلے ہی مر گیا تھا
خالہ - ٢٥ سال پہلے جھوٹ بولا تھا ہم نے تم سے ، تمہارا باپ اب مرا ہے
( نسرین گھر واپس ائی )
نسرین - مجھے اس کی بدلتی عادتوں سے پتہ چل گیا تھا کہ اب وہ میرے حکم کے ساۓ میں نہیں جئے گا ، اچھا کیا اس نے ، وہ مجھے بدل نہیں سکتا تھا اس لئے اس نے اپنا راستہ بدل لیا
یاور - ہمشیرہ
( نسرین اپنی بیٹی سے گلے لگ کے رو پڑی اور بیٹی سے کہا ، تمہارا باپ ایک شاندار آدمی تھا )
شازیہ - میں تیمور سے ملنا چاہتی ہوں پاپا ، میں آپ سے اجازت لینے ائی ہوں اس کا باپ مر گیا ہے
مزاری - رامس کا باپ بھی مر گیا ہے وہاں تو نہیں گئی تم
شازیہ - وہیں جا رہی ہوں وہ جو رامس کا باپ ہے وہی تیمور کا باپ بھی ہے
مزاری - حیرانگی سے شازیہ کی طرف دیکھنے لگا
زبیدہ - تیمور وہ تمہارا باپ تھا باپ
تیمور - بس ، میرے سامنے کوئی اس کا نام نہ لے ، میں دنیا میں اس کے لئے ترسا اب وہ قبر میں میرے لئے ترسے گا
زبیدہ - تم کسی کو معاف نہیں کرتے تیمور
تیمور - سچ کہوں زبیدہ ، مجھے بھی کوئی معاف نہیں کرتا ( روتے ہوے )
خالہ - اب وہ مر گیا ہے میں بھی سارے شکوے بھول گئی ہوں اب تم بھی شکوے شکایت بھول جاؤ
تیمور - میری یاداشت بڑی بری ہے ایک بار کوئی بات دماغ میں پھس جاۓ تو پھر بھولتی نہیں ہے
خالہ - تمہارا تو گلہ ہی بہت کم ہے ، نہ اس نے تمہیں کبھی دیکھا نہ کبھی مارا نہ کبھی ڈانٹا ایک پیار کی کمی تھی جو تمہاری ماں نے پوری کر دی
تیمور - تمہیں کیسے بتاؤں خالہ پیار والا تو کوئی گلہ ہی نہیں تھا اس سے ، گلہ تو یہ تھا کہ نہ کبھی اس نے مجھے مارا اور نہ ہی کبھی ڈانٹا ( تیمور چلا گیا )
یاور - تم تو ہمشیرہ حیات احمد کا نام بھی سننے کے لئے تیار نہیں تھی
نسرین - مجھے کیا پتہ تھا کہ تم ایک دن فون کر کے کہو گے کہ وہ تمہاری دنیا چھوڑ کر چلا گیا
یاور - میں نے کفن میں لپٹا ہوا چہرہ دیکھا ہے اس کا ، کافی اطمینان تھا اس کے چہرے پے ، یقین نہیں آتا کے کوئی اپنی موت پے اتنا مطمین بھی ہوتا ہے
( اگلے دن )
ماں - اب اگر تیمور گھر آ ہی گیا ہے تو اس کو سکون سے رہنے دے ، اپنے علم کا روب جھاڑ کے اسے پریشان نہ کر
زبیدہ - وہ سیدھا ہے ؟ جلیبی کی طرح سیدھا ہے وہ
ماں - موں بنا کے بیٹھو گی تو موں پھیر کے چلا جاۓ گا وہ
زبیدہ - کیدھر ؟ اس حسن پری کے پاس ؟
( دروازہ بجا ماں نے دروازہ کھولا تو شازیہ سامنے تھی )
شازیہ - یہ تیمور کا گھر ہے ؟
ماں - ہاں
شازیہ - میں شازیہ ہوں تیمور سے ملنے ائی ہوں
ماں - اچھا بیٹی اندر آؤ
شازیہ - زبیدہ کی طرف دیکھتے ہووے ، آپ زبیدہ ہو ؟ میرا نام شازیہ ہے
زبیدہ - غصّے میں موں بناتے ہوۓ ، ائیں بیٹھیں
شازیہ - شکریہ
ماں - کچھ کھائیں گی ؟
شازیہ - نہیں میں تیمور سے اس کے باپ کی موت کا افسوس کرنے ائی ہوں
زبیدہ - وہ گھر پر نہیں ہے
شازیہ - میں انتظار کر لیتی ہوں
زبیدہ - جی
شازیہ - میں پہلی بار اندروں شہر ائی ہوں یہ تنگ گلیاں پورانے گھر ، گھر سے جوڑے گھر لوگوں سے جوڑے لوگ مجھے اچھا لگا
زبیدہ - ڈیفنس والوں کو شروع شروع میں یہاں بہت سی چیزیں اچھی لگتی ہیں ، پر وہ اچھی ہوتی نہیں ہیں ، کب پتہ چلا تیمور کے باپ کی موت کا ؟
شازیہ - پچھلے دن
زبیدہ - حیرت ہے تیمور کو تو آج پتہ چلا ہے ، اب تو آنا جانا ہوتا رہے گا نہ
شازیہ - کبھی کبھار
زبیدہ - کبھی کبھار تو تیمور بھی ڈیفنس جاتا ہوگا
شازیہ - نہیں ، بس ایک بار آنا ہوا تھا ان کا ، پھر کبھی نہیں آے
زبیدہ - ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ، تیمور تھوڑا ضدی ہے شائد اس لئے نہ آیا ہو کے آپ کبھی یہاں نہیں آئین
( تیمور گھر آیا )
تیمور - شازیہ جی آپ ، بیٹھیں نہ
زبیدہ - طنزیہ موں بناتے ہوۓ ، بیٹھیں نہ
شازیہ - میں تمہارے باپ کا افسوس کرنے ائی ہوں
تیمور - وہ میرا باپ نہیں تھا اور نہ ہی مجھے اس کے مرنے کا کوئی افسوس ہے
زبیدہ - چپکے سے شازیہ کے کان کے قریب جا کے کہتی ہے ، سنا تم نے تیمور کو اس کے باپ کے مرنے کا افسوس نہیں ہے ، اور جب اس کو افسوس ہی نہیں ہے تو پھر آپ کا افسوس بھی نہیں بنتا
شازیہ - مجھے جانا چاہئے ، جانے کے لئے مڑی
زبیدہ - سنو ، دوبارہ اسے دیکھنے کے لئے یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے شکریہ
( زبیدہ چلی گئی )
حاکم - میں نے تمہیں منا کیا تھا جبار ، کے گاؤں میں یہ خبر نہ پوہنچے ورنہ یہ یہاں آ جاۓ گا ، اب یہ آ گیا ہے اور اپنی مرضیاں کرے گا تو نۓ مسلے پیدا ہو جایئنگے ، میرا بیٹا تمہارا باپ بلکل ٹھیک ہے ، تم واپس گاؤں جاؤ
سکندر - میں تو ابا جی کام پورا کر کے ہی جاؤنگا
حاکم - کونسا کام پورا کر کے جاؤ گے تم
سکندر - مجھے گولی مارنے والے کی لاش چاہئے ابا جی
حاکم - مجھے نہیں چاہئے


Comments
Post a Comment