Love Sea ( A Real Story ) Episod-11
( A Real Story ) Episod-11
Mazari - You asked me to visit the jail, I allowed you to visit whenever you want.
Shazia - Timur has reached jail?
Mazari - No, either he has not yet been reported to the police or he has not shot Yawar.
Shazia - Then I will not go to jail.
Zubeida - Tell me one thing, mother, did Timur's father not love his mother from the beginning?
Mother - He remained silent until married, then later said that his father-in-law is uneducated person .
Zubeida - he himself educated person ?
Mother - had a graduate pass, used to sell second hand coats in the market after graduation.
Zubeida - Then?
Mom - Then what, one day he ask he go to Canada and he never came back.
Zubeida - but he was coming.
Mother: Death call him come. It was holding your finger. I will hit you in front of those whom you killed while you were alive.
(Jalil went to Shazia's house to look for Timur. When the bell rang, Tony opened the door)
Jalil - Tell your madam that owner able Jalil has come.
Tony - Madam ?
Jalil: Isn't this the house of Mazari Sahib's daughter?
Tony - Yes
Jalil - Very good, then go and tell her that owner able Jalil has come.
Tony - She knows you?
Jalil - One meeting is enough to know about Jalil Sahib.
Tony - Jalil Sahib why do you want to meet her ??
Jalil - You go and tell her my name, I will tell her myself at work.
Tony - OK.
Employee - Yawar Sahib Jabbar has come to see you.
Yawar - Bring him in, bring him in with great honor, it is customary in our family to go to mourn each other's dead , (feeling shoulder pain)
Shazia - Come on, have you brought any message?
Jalil - The message is not, but advice.
Shazia - Advice, by whom?
Jalil - By myself, you no need think about education for advice.
Shazia - Sit down
Jalil - I didn't drink tea, miss .
Shazia - You sit down, sit down and talk.
Jalil - No, I won't sit down and talk.
Shazia - You look angry.
Jalil - I'm not angry, I'm in trouble, and owner able Jalil seems to be angry when he's in trouble.
Shazia - And why are you in trouble?
Jalil - he, Timur did not come home for several days.
Shazia - Wonder, what?
Jalil - Yes, and Zubeida thinks he will be in defense.
Shazia - Why?
Jalil - because she doubts Timur.
Shazia - And why does she doubt?
Jalil - Because she loves Timur so much and this is what happens in love, even a little doubt in love.
Shazia: Are you here to find Timur ?
Jalil: No , I'm here to tell you that they love each other very much.
Shazia - This is not advice , this is information .
Jalil - There is also advice in this information Shazia ji, that when two people love each other, the information to the third is equal to advice, if he comes here, ask him to rotate the shape of him face , because when you ask him rotate the shape of him face then he is very angry.
(Jalil is gone)
Tony - Looks like he made you sad.
Shazia - He has given me advice Tony, and on the way out he has proved that education is not necessary for advice , (Shazia has left)
(Jabbar and Yawar prayed for the deceased)
Jabbar - Dad often comes for such tasks himself, but I have come specially.
Yawar - ok
Jabbar: I have heard that Hayat Ahmed was a very capable man. My father misses him very much. Even today, when I left home to come here, he told me to cry over his name.
Yawar - ok
Jabbar - I also heard that he was a great peace loving man, and he did not know how to fire a gun until he died.
Yawar - yess
Jabbar: It is a pity that your shoulder has not healed yet and mountains of grief have fallen on you.
Yawar - Yes, Jabbar Sahib, whose death you have come to mourn, I do not know how many people have died while he is alive and now I do not know what will happen next .
Jabbar - May God wake them up in heaven, if they were alive I don't know what they get to see .
Yawar - Yes Jabbar Sahib, he was so compassionate that he was never happy when someone died .
Jabbar - What happened to his sudden death? It seems that now death has seen the way to your house , close the door Yawar Sahib, we do not see your house dying every day.
Yawar - I promise Jabbar Sahib that the process of dying in our house is over now, next time we will meet at your house.
(Jabbar Sahib Khuda Hafiz)
TO BE COUNTINUE........
-----------------------------------------------------------------------------------
Love Sea
( A Real Story ) Episod-11
مزاری - تم نے جیل وزٹ کرنے کے لئے کہا تھا ، میں نے اجازت دے دی جب چاہو وزٹ کر سکتی ہو .
شازیہ - تیمور جیل پوھنچ گیا ؟
مزاری - نہیں ، یا تو ابھی تک اس کے خلاف پولیس میں رپورٹ نہیں ہوئی اور یا پھر اس نے یاور کو گولی نہیں ماری .
شازیہ - تو پھر میں بھی جیل نہیں جاؤنگی .
زبیدہ - ایک بات تو بتاؤ ماں کیا تیمور کا باپ شروع سے اس کی ماں سے پیار نہیں کرتا تھا
ماں شادی ہونے تک تو وہ چپ رہا ، پھر بعد میں کہنے لگا کے اس کا سسر ان پڑھ ہے .
زبیدہ - وہ خود تو پڑھا لکھا تھا .
ماں - گریجویٹ پاس تھا ، گریجویٹ پاس کر کے بازار میں سیکنڈ ہینڈ کوٹ ہی بیچا کرتا تھا .
زبیدہ - پھر ؟
ماں - پھر کیا ، ایک دن کینیڈا کا کہہ کر گیا پھر واپس ہی نہیں آیا .
زبیدہ - آ تو گیا تھا ماں .
ماں - آیا نہیں تھا موت انگلی پکڑ کر لائی تھی کے چل تمہیں ان کے سامنے مارونگی جن کو تم نے جیتے جی مار دیا تھا .
( جلیل تیمور کو ڈھونڈنے شازیہ کے گھر گیا بیل بجائی تو ٹونی نے دروازہ کھولا )
جلیل - اپنی مالکن سے کہو کے جلیل صاھب آے ہیں .
ٹونی - مالکن ؟
جلیل - اوے یہ مزاری صاھب کی بیٹی کا گھر ہے نہ ؟
ٹونی - ہاں
جلیل - ویری گڈ تو پھر جاؤ اور جا کے بتاؤ کے جلیل صاھب آے ہیں .
ٹونی - وہ آپ کو جانتی ہیں ؟
جلیل - جلیل صاھب کو جاننے کے لئے ایک ملاقات ہی کافی ہے .
ٹونی - جلیل صاھب آپ کس لئے ملنا چاہتے ہیں ان سے ؟؟
جلیل - آپ جا کر ان کو میرا نام بتاؤ ، کام میں خود ان کو بتا دونگا .
ٹونی - ٹھیک ہے .
ملازم - یاور صاھب جبار آپ سے ملنے آیا ہے .
یاور - اندر لے آؤ ، بڑی عزت سے اندر لے آؤ اسے ، ہمارے خاندان میں ایک دوسرے کی میت پر افسوس کے لئے جانے کا رواج ہے ، ( کندھے کے درد کو محسوس کرتے ہوے )
شازیہ - آؤ ، کوئی پیغام لے کر آے ہو ؟
جلیل - پیغام نہیں مشورہ لے کر آیا ہوں .
شازیہ - مشورہ ، کس کی طرف سے ؟
جلیل - خود اپنی طرف سے ، آپ میری تعلیم پے نہ جائیں مشورے کے لئے تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی .
شازیہ - بیٹھیں
جلیل - میں نے چاۓ نہیں پنی جناب .
شازیہ - آپ بیٹھیں ،بیٹھ کے بات کرتے ہیں .
جلیل - نہ جی ، بیٹھ کے بات نہیں کریں گے .
شازیہ - آپ تو غصّے میں لگتے ہیں .
جلیل - غصّے میں نہیں تکلیف میں ہوں ، اور جلیل صاھب جب تکلیف میں ہوتے ہیں تو لگتا ہے غصّے میں ہیں .
شازیہ - اور تکلیف میں کیوں ہے آپ ؟
جلیل - وہ تیمور کافی دنوں سے گھر نہیں آیا .
شازیہ - حیران ، کیا ؟
جلیل - ہاں ، اور زبیدہ سمجھتی ہے کہ وہ ڈیفنس میں ہوگا .
شازیہ - کیوں ؟
جلیل - کیوں کے وہ تیمور پے شک کرتی ہے .
شازیہ - اور وہ شک کیوں کرتی ہے ؟
جلیل - کیونکہ وہ تیمور سے بہت محبت کرتی ہے اور محبت میں ایسا ہی ہوتا ہے کے محبت میں انسان تھوڑا سا شک بھی کرتا ہے .
شازیہ - آپ تیمور کو یہاں ڈھونڈنے آئین ہیں ؟
جلیل - نہیں جی ، میں تو یہاں یہ بتانے آیا ہوں کے وہ دونوں ایک دوسرے کو بہت محبت کرتے ہیں .
شازیہ - یہ مشورہ نہیں اطلاح ہے .
جلیل - اس اطلاح میں مشورہ بھی تو ہے شازیہ جی ، کہ جب دو لوگ آپس میں محبت کرتے ہوں تو تیسرے کو اطلاح مشورے کے برابر ہوتی ہے ، اگر وہ یہاں آے تو اسے شکل گھوم کرنے کا کہو کیوں کے اگر اسے شکل گم کرنے کا کہو تو وہ بہت غصّہ کرتا ہے .
( جلیل چلا گیا )
ٹونی - لگتا ہے وہ تمہیں اداس کر گیا .
شازیہ - وہ مجھے مشورہ دے گیا ہے ٹونی ، اور جاتے ہوۓثابت کر گیا ہے کہ مشورے کے لئے تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی ، ( شازیہ چلی گئی )
( جبار اور یاور نے مرنے والے کے لئے دعا کی )
جبار - اکثر ابا جی ایسے کاموں کے لئے خود آیا کرتے ہیں ، لیکن میں خصوصی طور پے آیا ہوں .
یاور - جی ،
جبار - سنا ہے حیات احمد بڑے قابل آدمی تھے ، ابا جی بہت یاد کرتے ہیں انہیں ، آج بھی جب میں یہاں آنے کے لئے گھر سے نکل تو مجھے کہا کہ ان کا نام لے کر رونا ضرور .
یاور - جی
جبار - یہ بھی سنا ہے کے وہ بڑے امن پسند انسان تھے ، اور مرتے دم تک ان کو بندوق چلانا نہیں اتی تھی .
یاور - جی
جبار - افسوس تو اس بات کا ہے کہ ابھی کندھا ٹھیک نہیں ہوا اور آپ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے .
یاور - ہاں ، جبار صاھب جس کے مرنے پر آپ افسوس کرنےآے ہیں ، اس کے جیتے جی پتہ نہیں کتنے لوگوں کی موت ہوئی ہے اور اب پتہ نہیں کیا ہوگا .
جبار - خدا ان کو جنت میں جگا دے ، اگر وہ زندہ ہوتے تو پتہ نہیں انہیں دیکھنے کو کیا کیا ملتا .
یاور - ہاں جبار صاھب ، وہ اتنے رحم دل تھے کے کبھی کسی کے مرنے پر وہ خوش نہیں ہوۓ -
جبار - کیا ہوا تھا انہیں کے اچانک موت ہو گئی ؟ لگتا ہے اب موت نے آپ کے گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے یاور صاھب ، دروازہ بند کریں یاور صاھب آپ کے گھر روز روز کا مرنہ ہم سے نہیں دیکھا جاتا .
یاور - میں وعدہ کرتا ہوں جبار صاھب کہ ہمارے گھر میں مرنے کا سلسلہ اب ختم ہوا ، اب اگلی بار آپ کے گھر میں ملاقات ہوگی .
( جبار صاھب خدا حافظ )


Comments
Post a Comment